ہم اقلیتیں نہیں، پاکستانی ہیں

اسلام آباد . اس سال پاکستان کے پیش آمدہ عام انتخابات میں مذہبی اقلیتوں کی شمولیت اور امکانات پر ایک رپورٹ میں دلچسپ مشاہدہ سامنے آیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں انسانی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر کام کرنے والی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنطیم “کرسچیئن ورلڈ سروس” کی جانب سے “پاکستانی انتخابات میں مذہبی اقلیتیں” کے زیر عنوان کروائی گئی اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق “اکثر لوگ جن سے ہم نے اس تحقیق کے دوران تعامل کیا انہوں نے اپنے آپ کو ‘اقلیت’ یا ‘غیر مسلم’ پکارا جانا پسند نہیں کیا”۔ اس رپورٹ کا مقصد پاکستان میں “غیر مسلم کمیونٹیوں کو مرکزی دھارے کے سیاسی اور انتخابی مباحثے میں مساوی طور پر شرکت کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے”۔

رپورٹ کے مصنف اور سرکردہ تحقیق کار طاہر مہدی کے مطابق اس تحقیق کے مرکز نگاہ لوگ اپنے لئے “غیر مسلم” کا لیبل پسند نہیں کرتے اور اس طرح اقلیتوں کی اس مضبوط خواہش اور عزم کو عیاں کرتے ہیں کہ وہ “غیر مسلموں” کے طور پر نہیں بلکہ “پاکستانیوں” کے طور پر ملک کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

مذہب کے علاوہ کسی اور بنیاد پر ایک مسلم اکثریتی ملک کا حصہ بننے کی خواہش اس وقت کی ہے جب ملک کی دستور ساز اسمبلی آئین بنانے کے کام میں مصروف ہوئی۔ 7 مارچ 1949 کو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے “قرارداد مقاصد” پیش کی جس کے مطابق حاکمیت اعلٰی خدا کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قراردار “پاکستانی تاریخ کی وہ پہلی قانونی دستاویز سمجھی گئی جو مذہب کو حکومت اور سیاست کے کرے میں لائی”۔

اس وقت دستور ساز اسمبلی کے 21 مسلمان ارکان نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ 10 “اقلیتی” ارکان نے اس خوف سے اس کے خلاف ووٹ دیا کہ یہ ملک ایک مذہبی ریاست بن جائے گا۔ نتیجے میں ایک ایسی تقسیم پیدا هوئی جسے مندمل کرنا مشکل سے مشکل ہوتا گیا۔

ستم ظریفی کہ یہ واقعہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے پہلے اور اکثر حوالہ دیئے جانے والے خطاب کے ایک سال کے اندر پیش آیا جس میں انہوں نے ایک کثرتیتی ریاست کا تصور پیش کیا جسے اپنے لوگوں کی ذات، قبیلے اور مذہب سے دلچسپی نہیں ہو گی۔

تاہم 1950 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں ایک فرقے احمدیوں کو جو اپنے آپ کو مسلمان خیال کرتے ہیں، غیر مسلم قرار دیئے جانے پر فسادات پھوٹ پڑے۔ ان کو سرکاری طور پر ستمبر 1974 میں “غیر مسلم” قرار دیا گیا۔ مزید برآں 1985 میں مسلمان کی تعریف اور زیادہ اہم یہ کہ غیر مسلم کی تعریف دستور میں شامل کر دی گئی۔ مسیحیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھوں، پارسیوں اور احمدیوں کی تعریف “غیر مسلموں” کے طور پر کر دی گئی۔

جن کی درجہ بندی غیر مسلموں کے طور پر کی گئی ان کو مختلف سطحوں پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑا اور بالخصوص سیاست میں ان کو بہت کم کامیابی ملی۔ 2002 اور 2008 کے گذشتہ دو عام انتخابات کے دوران صرف ایک غیر مسلم نے عام سیٹ سے انتخاب جیتا ہے۔

تاہم طاہر کے مطابق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اقلیتوں کا انتخابی پروفائل اتنا بے رنگ نہیں ہے۔ “قومی اسمبلی کے تقریبا ایک تہائی حلقوں میں (272 میں سے 98 حلقوں میں) غیر مسلم ووٹروں کی تعداد کا اندازہ 10000 یا زیادہ لگایا گیا ہے”۔ طاہر اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ 2002 اور 2008 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے 107 حلقوں میں جتنے ووٹوں سے فتح حاصل کی گٰئی ان کی تعداد اس حلقے میں رہنے والے غیر مسلم ووٹروں سے کم تھی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنا حساب درست کریں تو اگلے انتخابات میں اقلیتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم غیر سرکاری تنظیم “منارٹی رائٹس کمیشن پاکستان” کے چیئرمین ایم پرکاش کے خیال میں سیاسی عمل میں مساوی شہریوں کے طور پر حصہ لینے اور پاکستانیوں کے طور پر تسلیم کئے جانے کے لئے اقلیتوں کی انتخابی اہمیت سے ماورا جانے کی ضرورت ہے۔

پرکاش کہتے ہیں، “سیاسی جماعتوں کو عام نشستوں پر اقلیتوں سے امیدوار کھڑے کرنے چاہئیں”۔ اگرچہ حکومت نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کے لئے مختص نشستوں میں اضافے کے لئے بل متعارف کروایا ہے تاہم پرکاش چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اقلیتوں کو سیاسی عمل میں مکمل شمولیت کا احساس دلانے کے لئے اپنے “اقلیتی ونگ” ختم کریں۔ یہ اقلیتی ونگ پاکستانی غیر مسلم ووٹروں میں علیحدہ سے کام کرتے ہیں اور اکثر ان کمیونٹیوں میں علیحدہ ہونے کا احساس پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

“ہم سیاسی جماعت کے مساوی رکن کیوں نہیں ہو سکتے؟ “، پرکاش بات جاری رکھتے ہوئے دریافت کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم ووٹروں کی مساوی اور مشترکہ ووٹنگ تبھی مؤثر ہو سکتی ہے اگر امتیازی قوانین اور دستوری شقیں ختم کی جائیں۔ اس ضمن میں خصوصی طور پر اس شق کی طرف اشارہ ہے کہ ایک غیر مسلم پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔

رپورٹ کے مطابق “ووٹ کی مساوی حیثیت اچھی چیز ہے لیکن خوف، جبر اور ہراسیت بھی لازماً ختم ہونے چاہئیں: ریاست کو مذہب سے متعلق معاملات میں اپنے آپ کو غیر جانبدار قرار دینا چاہئے”۔

شناخت کے مسئلے کے ایسے حل کے طور پر جو اقلیتوں سے بیگانگی کا باعث نہ بنے، پرکاش کہتے ہیں کہ بہتر ہو گا اگر انہیں “مسیحی پاکستانی یا ہندو پاکستانی” کہا جائے۔ شاید صرف تبھی ہم اقلیت ۔ اکثریت کی اصطلاحات میں بات کرنا ختم اور پاکستانیوں کے بارے میں بات کرنے کا آغاز کر سکتے ہیں۔

 CGNews از داؤد ملک  ماخذ

Advertisements

Have Your Say!

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s